حکایت سعدیؒ ,بھوت قابو کرنے کا شوق

ایک شخص کو بھوت قابو کرنے کا شوق پیدا ہوا۔ بیچارے نے بہت جنتر منتر سیکھے۔ مگر بھوت بس میںنہ آیا۔ لا چار وہ جنگل میں رہنے والے ایک بزرگ کے پاس گیا اور کہنے لگا ، ’’مجھے کوئی تدبیر بتائو کہ بھوت میرے قبضے میں آجائے،وہ میرا کام دھندا سب کچھ کر دیا کرے۔‘‘ بزرگ عقلمند انسان تھا۔ اس نے کہا’’ بھوت بہت برے ہوتے ہیں۔ اس خیال سے بازآجائو۔ تم اس کو کام کاج نہ بتا سکو گے۔ آخر میں وہ تم کو چٹ کرجائے گا۔‘‘ اس نے کہا’’میرے پاس بہت کام کاج ہے۔ جن سے وہ کبھی فرصت نہ پاسکے گا۔‘‘ آخر اس ا نے منتر بتا دیا۔ یہ گھر میں آکر منتر سدھ کرنے لگا۔ جب میعاد مقرر پر منتر سدھ ہو گیا، بھوت ظاہر ہو کر کہنے لگا ’’بتائو کیا کروں؟‘‘ اس نے کہا’’ ایک عمارت شاندار بنا دے۔‘‘ ایک پل میں عالی شان عمارت تیار ہوگئی۔ اس نے کہا’’ کھیت جوت آئو۔‘‘ اور کھیت جوتا ہوا تیار تھا۔ اس نے کہا’’بہت سا روپیہ لائو۔‘‘ خزانہ وہیں حاضر‘ غرضیکہ جو مشکل اور مختلف کام اس کو بتائے گئے، سب ہو گئے۔ اب کوئی کام نہ رہا۔ بھوت نے کہا’’کام بتائو‘ ورنہ میں تم کو کھا جائوں گا۔‘‘ یہ ڈرا اور دوڑ کر بزرگ کے پاس گیا اور کہا ’’بھوت کو جو کچھ کہتا ہوں‘ وہ جھٹ پٹ کر دیتا ہے۔ اب میرے پاس کوئی کام نہیں ہے۔ بتائو کیا کروں؟ ورنہ وہ مجھ کو کھا جائے گا۔ ‘‘ اتنے میں بھوت بھی کھائوں کھائوں کرتا پہنچ گیا۔بزرگ کے پاس ایک کتا بیٹھا ہوا تھا۔ آدمی کے ہاتھ میں خنجر دیکھ کر اس نے کہا۔’’ اس کی دم کاٹ لے اور بھوت سے کہہ کہ سیدھی کر دے۔ ‘‘ بھوت نے کتے کی دم ہاتھ میں لے لی۔ ایک مرتبہ سیدھی کر دی۔ پھر جب اس کو چھوڑ دیا ‘ تو ٹیڑھی کی ٹیڑھی۔ ایک دن گزرا دو دن گزرے، تین دن گزرے، بھوت نے ہزار کوشش کی‘ مگر کتے کی دم سیدھی نہ ہوئی۔ تب وہ بہت گھبرایا اور کہنے لگا’’ بھائی جو کچھ میںنے دھن دولت، روپیہ پیسہ تجھ کو دیا، وہ سب تیرا‘ اب مجھ کو چھٹی دے دے۔‘‘ یہ فوراً راضی ہو گیا۔ بھوت اپنے ٹھکانے پرگیا اور یہ اپنے گھر چلا گیا۔ ​

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں