حکایت مولانا رومیؒ ، آقا اور غلام

کسی امیر کے پاس ایک نہایت محنتی ،دیانتدار متقی اور پرہیز گارغلام تھا، سنقر نام کا۔وہ اپنے ایمان اور خدا کی محبت میں جتنا پختہ تھا ، اس کا آقا اتنا ہی کمزور اور نافرمان تھا۔ ایک دفعہ آدھی رات کے قریب آقا نے سنقر کو آواز دی کہ بستر سے نکل، سفر کا سامان ساتھ لے اور میرے ہمراہ چل۔ سنقر نے آقا کی پہلی آواز ہی پر گرم گرم بستر چھوڑ دیا، جھٹ پٹ ضروری سامان ساتھ لیا اور آقا کے ہمراہ چل پڑا۔ راستے میں ایک مسجد سے اذانِ فجر کی آواز آئی سنقر نے آقا سے کہا :

’’حضور! آپ ذرا ایک طرف قیام فرمائیں، فجر کی نماز ادا کرلوں۔‘‘

آقا نے کہا ’’بہت اچھا ، لیکن جلدی آنا۔‘‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں