بلاگ

اکثر بہت سارے دوست ہمیں میسج کرتے ہیں اور اپنی تحریر بھی بھیجتے ہیں لیکن ان کی تحریرشائع نہیں کی جاتی تو اس بنا پر ہمارے دوستوں کے ذہن میں خیال آتا ہو گا کہ شائد ہماری تحریر اچھی نہیں ہو گی یا پھر ہمیں تحریر لکھنی نہیں آتی تو ایسے میں وہ یا تو لکھنا چھوڑ دیتے ہیں یا پھر ہمیں کوستے ہیں کہ آپ ہماری تحریر کو شائع نہیں کرتے۔ جبکہ ہو سکتا ہے کہ وہ تحریر ہمارے مطابق اچھی نہ ہو جبکہ آپ اسے ایک مکمل تحریر سمجھ رہے ہوں۔ نامکمل یا نا پختہ ہونے کی صورت میں آپ کی تحریر کو شائع نہیں کیا جاتا۔
نئے لکھنے والے کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنی تحریر جس سیکشن میں بھیجنا چاہتا ہے۔ وہ یہ معلوم کرے کہ اس بلاگ کے قارئین کا حلقہ کیسا ہے؟ وہ تحریر کسی ادبی،اسلامی، سائنسی، معاشی سیکشن کو بھجوا رہا ہے، یا پھر وہ کسی اور حوالے سے ہے۔

اگر تحریر شایع نہیں ہوتی تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ کی تحریر معیاری نہیں تھی ، بلکہ اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ نے تو تحریر بہت شاندار لکھی، لیکن اسی موضوع پر دیگر کئی افراد کی تحریریں شایع ہوچکی ہیں یا وہ موضوع ہی پرانا ہوچکا ہے۔

اگر پہلی بار بھیجنے سے آپ کی تحریر شایع نہیں ہوئی تو دوسری بار بھیجیں، تیسری بار بھیجیں، مستقل مزاجی سے لگے رہیں۔ جب ایک بار آپ کی تحریریں شایع ہونے لگیں تو ایڈیٹر کو خود ہی اندازہ ہوجائے گا کہ فلاں نیا لکھنے والا اچھا لکھتا ہے۔ اب وہ نئے لکھاریوں کی تحریروں کی بہتات کے باوجود آپ کی تحریر کو ترجیح دے گا۔ ویب ایڈیٹر کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ ایڈیٹر ہر تحریر کو اول تا آخر پڑھے، بلکہ سب سے پہلے ترجیحی بنیادوں پر اپنے پرانے لکھاریوں کی تحریروں کو دیکھا جاتا ہے ، ان کے ہوتے ہوئے نئے لکھاریوں کو ترجیح نہیں دی جاسکتی۔ جب پرانے لکھاریوں میں سے کسی کی تحریر نہ ہو تو اس کے بعد نئے لکھاریوں پر توجہ دی جاتی ہے۔ اگر کوئی نیا لکھاری اپنی تحریر شایع نہ ہونے کے باوجود بھی مستقل بھیجتا رہے تو رفتہ رفتہ وہ بھی بلاگ پر جگہ پانے لگے گا، لیکن مستقل مزاجی ضروری ہے۔ یہ معاملہ آج کے کسی نئے لکھاری کے ساتھ ہی نہیں، بلکہ آج کے کئی نامور اور معروف کالم نگاروں کی بھی ان کے ابتدائی دنوں میں بہت سی تحریریں مسترد ہوتی رہی ہیں، لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری، مستقل مزاجی کے ساتھ لگے رہے اور آج ان کا بڑا نام ہے۔ آج بہت سے لوگ بڑا لکھاری بننے کی خواہش کا اظہار تو کرتے ہیں، لیکن ان کی آج کی شہرت کے پیچھے برسوں کی مسلسل محنت پر نظر نہیں ڈالتے۔ کوئی بھی بڑا آدمی ”بائی ڈیفالٹ“ بڑا نہیں ہوتا، بلکہ اسے مسلسل محنت کرنا پڑتی ہے۔ اس کے راستے میں بہت سے کٹھن مراحل بھی آتے ہیں، لیکن وہ کبھی گھبراتا نہیں ہے، بلکہ ہمیشہ ان تمام مراحل کو خوش اسلوبی کے ساتھ عبور کرلیتا ہے۔

سب سے پہلے تو یہ ضروری ہے کہ تحریر کو اخبار کے مزا ج کے مطابق لکھیں، تحریر لکھنے کے بعد پہلے خود اسے کئی بار پڑھیں، ہر بار پڑھنے سے بہت سی نئی غلطیاں سامنے آئیں گی، جن کی اصلاح آپ کو خود ہی کرنا ہوگی۔ ممکن ہو تو کسی صاحب فن کو اپنی تحریر دکھا بھی لیں۔جب آپ اپنے تئیں اپنی تحریر کو کلیئر کردیں تو تحریر کو فیئر کرنے کے بعد ویب ایڈیٹر کو بھیجیں۔ اپنی تحریر ایڈیٹر کو روانہ کرنے کے بعد انتظار کریں۔ اگر آپ کی تحریر جان دار ہوئی تو ایڈیٹر ضرور لگائے گا، کیونکہ ایک اچھی تحریر کی ضرورت بلاگ کو رہتی ہے۔

تحریر بھیجنے سے پہلے چند خاص باتوں کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے جو درج ذیل ہیں۔

1: تحریر آپ کی اپنی ہونی چاہیئے۔ کیونکہ کسی کا چوری شدہ مواد کاپی کرنا بھی سنگین جرم کے زمرے میں آتا ہے تو اس بات کا خیال رکھیں کہ تحریر خالص آپ کی ذہنی تخلیق ہو۔

2: آپ کی تحریر پہلے کسی بھی جگہ پوسٹ نہ کی گئی ہو سب سے پہلے اس بلاگ پر شائع ہو اس کے بعد آپ اس کو کہیں بھی شیئر کریں اور ساتھ میں اس بلاگ کا لنک بھی ضرور دیں کہ یہ تحریر اس بلاگ سے لی گئی ہے۔

3: کوشش کریں کہ آپ کی تحریر پوری تحقیق کی بنا پر لکھی گئی ہو مطلب اس میں کسی قسم کی مبالغہ آرائی اور جھوٹ کا عنصر موجود نا ہو۔ اگر کہانی ہو تو مضبوط اور جان دار کردار ہو۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ mmsk1046@gmail.com پر ای میل کردیجیے۔

یا پھر ہمیں ہمارے فیس بک پیج (facebook.com/UrdugroupOfficialPage/) پر ان باکس کردیجیے