حکومتی دعوے ہوا ہو گئے، مہنگائی کے باعث شہری چیخ اٹھے

لاہور:منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کے حکومتی دعوے ہوا ہو گئے۔ وزیراعظم کے نوٹس کے باجود ملک بھر میں سبزیوں اور دیگر اشیائے خوردونوش کی قیمتیں کم نہ ہو سکیں۔
جی این این کے مطابق ملک بھر میں مہنگائی کا جن تاحال قابو نہ آسکا، اجلاس، نوٹسز اور تمام تر دعوے صرف زبانی جمع خرچ ہی ثابت ہوئے۔ لاہور میں سرکاری نرخ نامہ صرف ماڈل بازاروں تک ہی رہ گیا جہاں اشیائے خوردونوش سرکاری نرخ پر ملتی ہیں جبکہ اوپن مارکیٹ مارکیٹ میں منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کو کھلی چھٹی دے دی گئی ہے۔ لاہور میں سبزیوں کی قیمتیں کم ہونے کی بجائے مزید بڑھ گئیں۔ ٹماٹر نے ڈبل سینچری مکمل کر لی۔ ٹماٹر دو سو روپے فی کلو بکنے لگا۔ آلو سو روپے کلو ہو گیا۔
ادھر کراچی میں سبزیاں عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو گئیں۔ سبزی کے قیمتوں میں اضافے کے ساتھ گراں فروشی نے بھی شہریوں کی ناک میں دمکررکھا ہے ۔ٹماٹر کے دام سنچری کراس کر چکے ہیں اور نیچے آنے کا نام نہیںلے رہے ۔لہسن 200 روپے جبکہ ادرک کی فی کلو 500 روپے سے تجاوز کرگئی ہے ۔موسمی سبزیاں بینگن،شملہ مرچ،مٹرمولی اور شلجم کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں جبکہ دکاندار پرائز لسٹ تسلیم کرنے کوتیار نہیں ۔
پشاور میں بھی سبزیوں کی قیمتوں میں اضافے سے شہری پریشان ہوگئے ۔۔ شہر کی سبزی منڈی میں ادرک 700 روپے ، سبز مرچ 240 ، مٹر اور کریلہ 160 روپے ، سرخ آلو 120 ، سفید 70 اور ٹماٹر 120 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہے ہیں ۔۔ سبزی کے ساتھ ساتھ مرغی اور گوشت کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔ چکن فی کلو 231 ، بڑا گوشت فی کلو 5 سو ،جبکہ چھوٹے گوشت کی فی کلو قیمت 1 ہزار سے 11 سو تک پہنچ گئی ہے ۔دوسری جانب سردیاںآتے ہی چکن کی قیمت کو پر لگ گئے،دارالحکومت میں میں چکن چارسوروپے کلو میں فروخت ہونے لگا، ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سرکاری قیمتوں کےاطلاق کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ گراں فروشی کے باعث سبزی فروشوں کی پانچوں انگلیاں گھی اورسرکڑھائی میں ہے ، جبکہ پرائز کنٹرول اتھارٹی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ۔شہریوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کو کنٹرول کیا جائے۔

Source

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں