سانحہ اے پی ایس کو پانچ برس بیت گئے

تحریر : سید ذیشان

سانحہ اے پی ایس کو پانچ برس بیت گئے 16 دسمبر 2014 کا دن پوری قوم کے لیے تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا جسے قوم کبھی نہیں بھلا پائے گی۔ آج پھر 16 دسمبر کا دن لوٹ آیا مگر۔۔۔ نہیں لوٹ کر آئے تو وہ ان ماؤں کے معصوم پھول کہ جن پر ظلم کی انتہا کر دی گئی۔۔ نہیں آیا تو ان ماؤں کے دلوں کو کرار کہ جن کے بچے گھروں سے ہنستے کھیلتے سکول تو گئے تھے کہ پھر لوٹ کر نہ آئے۔ ان ماؤں کی ویران اور سنسان آنکھوں کو کبھی چین نہیں آتا ہو گا۔ شہداء کے والدین کے کبھی نہ بھرنے والے زخم آج پھر تازہ ہو گئے ہوں گے۔
شہدا میں ایک پرنسپل اور 16 سٹاف ممبرز سمیت 132 طلبہ شامل تھے۔ پانچ سال پورے ہونے کے بعد آج بھی بچھڑنے والوں کا غم اسی طرح تروتازہ ہے۔
آرمی پبلک سکول شہدا کے والدین سانحہ کے نفسیاتی اثرات سے نہیں نکل سکے۔ دسمبر کا مہینہ آتے ہی ان کا غم دوبارہ لوٹ آتا ہے۔ 16 دسمبر کے ہولناک سانحے میں شہید ہونے والے منوں مٹی تلے سو گئے لیکن ان کی یادیں آج بھی پہلے دن کی طرح تازہ ہیں۔
شہید بچوں کے والدین کیلئے دن جیسے تھم سے گئے ہیں۔ ان کی یادیں، شرارتیں اور اشیا آج بھی اسی طرح سنبھال کر رکھیں گئی ہیں۔
جن والدین کے بچے بچ گئے وہ بھی اس درد ناک دن کو فراموش نہیں کرسکے، دہشت گردوں نے اسکول پر حملہ کرکے علم کی شمع بجھانا چاہی، مستقبل کے معماروں کو نشانہ بنا کرملک اور سیکیورٹی اداروں کا حوصلہ توڑنے کی کوشش کی لیکن قوم کے حوصلے پست ہوئے۔ اور نہ کبھی ہوں گے۔

ہمارا خون بھی شامل ہے تزئینِ گلستان میں
ہمیں بھی یاد رکھنا چمن میں جب بہار آئے۔ 🙏🙏

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں