شہنشاہ قوال استادنصرت فتح علی کا آج 72واں یوم پیدائش

ویب ڈیسک : کلاسیکل موسیقی کے بےتاج بادشاہ اور شہنشاہ قوال کے نام سے پہچانے جانے والے استاد نصرت فتح علی خان کا آج 72واں یوم پیدائش ہے ۔ان کی جاندار آواز کا سحر آج بھی برقرارہے۔
فیصل آباد کے معروف گھرانے سے تعلق رکھنے والے عالمی شہرت یافتہ ممتاز قوال و موسیقار استاد نصرت فتح علی خان13 اکتوبر 1948کو پیدا ہوئے اور صرف سولہ برس کی عمر میں صوفی قوالی کا رنگ اپنایا ۔ نصرت فتح علی نے قوالی کے 125 آڈیو البم ریلیز کیے جو کہ ایک ورلڈ ریکارڈ ہے۔استاد نصرت فتح علی خان نے ’دم مست قلندر مست‘، ’علی مولا علی‘، ’یہ جو ہلکا ہلکا سرور ہے‘، ’میرا پیا گھر آیا‘، ’اللہ ہو اللہ ہو‘، ’کنا سوہنا تینوں رب نے بنایا‘، ’اکھیاں اڈیک دیاں‘، ’کسی دا یار نا وچھڑے’، ’میرا پیا گھر آیا“ اور ’میری زندگی ‘ جیسے لازوال گیت اور قوالیاں پیش کیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے سینکڑوں کی تعداد میں یادگار غزلیں اور گیتوں کے ساتھ ملی نغمے بھی پیش کئے جن میں “میراپیغام پاکستان “سب سے زیادہ پسند کیاگیا۔
شہنشاہ قوال نصرت فتح علی نے بین الاقوامی سطح پر قوالی کومتعارف کروایا اور ان کی قوالی سے بے شمار غیر مسلموں نے اسلام قبول کیا ۔ بین الاقوامی سطح پر ان کا پہلا شاہکار 1995 میں ریلیز ہونے والی فلم”ڈیڈ مین واکنگ“ تھا جس کے بعد انہوں نے ہالی ووڈ کی ایک اور فلم ”دی لاسٹ ٹیم پٹیشن آف کرائسٹ“ کی بھی موسیقی ترتیب دی۔اس کے علاوہ انہوں نے قوالی پر کتابیں بھی لکھی گئیں جبکہ جاپان میں 1992میں’ شہنشاہ قوالی’کے نام سے کتاب بھی شائع کی گئی اورانہیں “گانے والے بدھا “کے لقب سے نوازا گیا ۔
استاد نصرت فتح علی خان جگر اور گردوں کے عارضے میں مبتلا ہو کر 48 برس کی عمر میں 16 اگست 1997ء کولندن کے ایک ہسپتال میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ موسیقی کے ذریعے پوری دنیا میں نام کمانے والے اس بادشاہ کی یاد مداحوں کے دلوں میں ہمیشہ رہے گی ۔

News Source

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں