مہلک کورونا وائرس ، دو نئی ممکنہ علامات سامنے آگئیں

ویب ڈیسک : برطانوی محققین نے سونگھنے اورچکھنے کےاحساس کے ختم ہو جانے کو مہلک کورونا وائرس کی ممکنہ علامات سے منسلک کیا ہے ۔
دنیا بھر میں مہلک کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعدا د اس وقت تین لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے ۔ کوویڈ19 کی تشخیص کےلئے صرف چند علامات سامنے آئیں جس کے بعد ان کا ٹیسٹ کیا جاتا مگرحال ہی میں برطانیہ میں نئی معلومات سامنے آئی ہیں جس سےپتہ چلتا ہے کہ مہلک وائرس کا علاج کرنے والے ڈاکٹرز اورمریض دونوں عارضی طور پر اپنے سونگھنے اورچکھنےکا احساس کھو رہے ہیں۔ 11روز قبل این بی اے کے کھلاڑی میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی ، یوٹاز جاز کے کھلاڑی روڈی گوبرٹ نے ٹویٹر پر لکھا کہ “پچھلے 4 دن سے میں کچھ بھی سونگھ نہیں پایا ۔
کنگز کالج لندن میں رائنولوجی کے پی ایچ ڈی پروفیسر کلائر ہاپ کنزجمعہ کو شائع ہونے والے ایک مقالے کے مطابق گوبرٹ اپنی تنہائی سے بھی دور ہیں۔ مہلک وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور ان سب میں دیگربڑی علامات ظاہر نہیں ہوئیں تاہم انوسمیا یعنی سونگھنے کی حس کا ختم ہونا کی شکایت کئی لوگوں نے کی ہے ۔ ہاپکنز نے مقالے میں لکھا ہے کہ برطانیہ کے ناک کان گلے کے طبی ماہرین نے اس حوالے سے وسیع پیمانے پراپنے تجربات شئیر کیے ہیں ۔ ہاپکنز نے مزید کہا کہ ابتدا میں انتباہی کے طور پر انوسمیہ کا ذکر وائرس کی علامت کے طور پر نہیں کیا گیا ہے لیکن اب بہت سارے ممالک بشمول جنوبی کوریا ، چین اور اٹلی و جرمنی اپنے مریضوں میں ان علامات کی نشاندہی کر رہے ہیں جن میں کوویڈ 19 کی دیگر علامات نظر نہیں آئیں مگر وائرس کی تشخیص ہوئی۔ ڈاکٹرز نے مہلک وائرس سے انسومیہ کے ساتھ موجود 3 میں سے 2 افراد میں تصدیق کی ہے ۔
ابھی کوئی بھی سونگھنے اور چکھنے کی حس کو کوویڈ 19 کی ظاہری علامات کے طور پرباقاعدہ اعلان کرنے کوتیار نہیں ۔ اس بارے میں عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ اس نظریہ کی تصدیق کرنا ابھی باقی ہے۔ “ہم نے بیماری کے ابتدائی مرحلے میں لوگوں میں بہت سی علامات دیکھی ہیں جس میں وہ سونگھنے اور چکھنے کا احساس کھو سکتے ہیں ۔لیکن یہ ایسی چیز ہے جس کی حقیقت میں غور سےہمیں دیکھنے کی ضرورت ہے اگریہ کوویڈ19کی علامات میں سے ایک ہے۔”
علامات کی دیگر تحقیق کے بعد ہاپکنز نے فیصلہ کیا کہ وہ لوگوں سے اسے شئیر کریں گے ۔ ہاپکنز کا کہنا تھا کہ میں نے پچھلے ہفتے بہت سارے مریضوں کو دیکھا جن کو ہمارے اسپتال اسکریننگ کے لئے نہیں لے پا رہے تھے مگر اب کان ، ناک اور گلے (ENT) کے ڈاکٹرز تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ اگر زیادہ سے زیادہ صحت کی دیکھ بھال کرنے والے کارکنوں اور مریضوں کو ان نئی علامات سے آگاہ نہ کیا گیا تو بہت سارے معاملات کا پتہ نہیں چل سکے گا۔۔ سونگھنے اور چکھنے کی حس کووڈ 19 کی اسکریننگ کی علامات والی فہرست کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ نظام تنفس کے مسائل کی دیگر علامات نمودار ہوئے بغیر ہی سامنے آجائیں۔
اگرچہ اس بات کا تعین کرنے کے لئے زیادہ تحقیق کی ضرورت ہے کہ بو اور ذائقہ کی کمی کا تجربہ کرنا کتنا عام ہے ، ہاپکنز نوٹ کرتے ہیں کہ ایسے مریض خاموشی سے اس وائرس کو پھیلانے کا باعث بنتے ہیں۔ برطانوی تحقیق میں کہا گیا کہ اگر اچانک لوگ سونگھنے یا چکھنے کی حس سے محروم ہوجائیں، مگر بظاہردیگر علامات نظر نہ آئیں تو ان کو 7 دن کے لیے خود کو تنہا کرلینا چاہیے تاکہ دیگر افراد اس وائرس سے بچ سکیں۔
واضح رہے کہ دنیا بھر میں وائرس سے ہونے والی اموات کی تعداد 16 ہزار500 سے تجاوز کرگئی اور تصدیق شدہ کیسوں کی تعداد تین لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے ۔ مہلک وائرس سے پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ کیسز کی تعدادمیں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور یہ تعداد 887تک پہنچ گئی ہے۔

News Source

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں