بچوں میں نکسیر پھوٹنے کی وجوہات کیا ہیں؟

لاہور: اکثر اوقات اچانک بچوں کی ناک سے خون بہنے لگتا ہے، اس عمل کو نکسیر پھوٹنا کہتے ہیں۔ طبی ماہرین اسے عام مسئلہ کہتے ہیں لیکن والدین اس سے خوف اور پریشانی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

ناک سے نکلنے والا خون جلد ہی بند ہو جاتا ہے لیکن اگر نتھنوں میں یہ خون کسی وجہ سے جم جائے تو بچے کو ڈاکٹر کے پاس طبی امداد کیلئے لے کر جانا ضروری پڑ سکتا ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ 10 سال تک کی عمر کے بچوں میں پایا جاتا ہے۔ اگر کوئی بچہ اس میں مبتلا ہے تو اس کی صحت کے بارے میں احتیاط کرنے کی ضرورت ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی ناک کا اگلا حصہ انتہائی چھوٹی اور باریک نالیوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اگر کسی وجہ سے اس حصے میں سوجن پیدا ہو جائے تو یہ نالیاں پھٹ جاتی ہیں اور ان میں سے خون بہنے لگتا ہے۔ اس کے برعکس ناک کے پچھلے حصے میں مضبوط اور موٹی وریدیں ہوتی ہیں، اس حصے کی نکسیر پھوٹے تو اسے روکنا مشکل ہو جاتا ہے۔

اس کی وجوہات کے بارے میں بتاتے ہوئے طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مسئلے میں سب سے بڑا کردار خشک ہوا کا ہے جو ناک کی جھلیوں کو بھی خشک کر دیتی ہے جس سے خون بہنے لگتا ہے۔

اس کے علاوہ ناک کو سختی رگڑنے سے بھی نکسیر پھوٹ جاتی ہے۔ ناک رگڑنے سے اس میں خارش پیدا ہو جاتی ہے جو نکسیر کا سبب بنتی ہے۔

اس کے علاوہ ناک پر چوٹ لگنے سے بھی نکسیر بہنے لگتی ہے۔ خون بہنے کا یہ عمل بھی جلدی ختم ہو جاتا ہے تاہم یہ اگر 10 منٹ تک جاری رہے تو زخمی شخص کو فوری طبی امداد کیلئے ہسپتال پہنچانا چاہیے۔

Source

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں