پی آئی اے کا طیارہ آبادی پر گرکر تباہ, 73 لاشیں ہسپتال منتقل, امدادی کارروائیاں جاری

کراچی: پی آئی اے کا مسافر طیارہ کراچی ایئر پورٹ کے قریب آبادی پر گرکر تباہ ہوگیا۔ طیارے میں91 مسافر, عملے کے 8ارکان سوار تھے۔ 73افراد کی لاشیں نکال لی گئیں ، 3افراد معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔
تفصیلات کے مطابق پی آئی اے کی پرواز پی کے 8303 نے دوپہر ایک بج کر10 منٹ پر علامہ اقبال ایئرپورٹ سے اڑان بھری ، ٹھیک ڈیڑھ گھنٹے بعد طیارہ کراچی ایئرپورٹ کے رن وے سے محض دو کلومیٹر دور تھا جب اس کا دوسرا انجن بھی بند ہو گیا۔ایئرٹریفک کنٹرول نے پائلٹ کو رن وے کلیئرنس کا پیغام دیا۔ لیکن اسی دوران طیارے کا لینڈنگ گیئر بھی خراب ہوگیا۔ پائلٹ نے پرواز کو بائیں جانب موڑنے کی کوشش کی لیکن اسے مہلت نہ ملی اور ائیرپورٹ رن وے سے صرف دس سیکنڈ کی مسافت پر طیارہ جناح گارڈن کے رہائشی علاقے کی بلند عمارت سے ٹکرا کر تباہ ہوگیا۔
چیئرمین پی آئی اے کے مطابق طیارے میں 99 مسافر اور کیپٹن سجاد گل سمیت عملے کے 8 ارکان موجود تھے۔طیارہ کے عملے میں سجاد گل ، عثمان اعظم ، فرید احمد ، عبدالقیوم ،ملک عرفان ، مدیحہ اکرام ، آمنہ عرفان اور عاصمہ شہزادی کی بھی طیارہ میں موجودگی تھیں۔
ترجمان محکمہ صحت نے حادثے میں 73افرادکے جاں بحق ہونے کی تصدیق کر دی ، 5کی شناخت ہوگئی۔ طیارہ گرنے سے تین مکان مکمل تباہ ہو گئے جبکہ آگ بھڑکنے سے کئی مکانوں کو شدید نقصان پہنچا، جائے حادثہ پر امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔ بدقسمت طیارے کا بلیک باکس مل گیا۔ ریسکیو اداروں کے رضاکاروں ، رینجرز اور پاک فوج کے جوانوں نے بروقت آپریشن کرکے جلتے ہوئے جہازسے کئی افراد کو نکلا۔ متاثرہ گھروں سے بھی پانچ بچوں کو زندہ بچالیا گیا۔
دوسری جانب گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کراچی ایئرپورٹ کے قریب طیارہ گرنے کے واقعے پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے چیئر مین پی آئی اے سے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے ٹوئٹ میں کہا کہ آرمی کوئیک ریسپانس فورس اور رینجرز کے جوان حادثہ کے مقام پر پہنچ گئے، تمام جوان ریسکیو آپریشن میں سول انتظامیہ کی مدد کریں گے۔

News Source

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں