پشاور یونیورسٹی کے 300 کنٹریکٹ ملازمین کی مستقلی کی درخواست سماعت کےلئے منظور

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے پشاوریونیورسٹی ملازمین کی اپیل سماعت کیلئے منظور کر لی، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کنٹریکٹ میں کی گئی بھرتیاں ہی مستقل کریں، کسی کو نوکری سے فارغ نہیں کر سکتے۔

تفصیلات کے مطابق بدھ کوچیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے پشاوریونیورسٹی ملازمین کی مستقلی سے متعلق اپیل پرسماعت کی، بینچ نے 300لوگوں کی مستقلی، قانون، بجٹ پوسٹ اور تشہیر سے متعلق سوالات کیے، یونیورسٹی کے وکیل نے بتایا کہ کچھ پوسٹوں پر تشہیر کی تھی اور کچھ یونیورسٹی سنڈیکیٹ کے ذریعے بھرتی ہوئے تھے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ قانون کے مطابق تین سال سے کنٹریکٹ ملازمت کرنے والے کو مستقل کیا جا سکتا ہے، کنٹریکٹ میں کی گئی بھرتیاں ہی مستقل کریں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے نئی بھرتیوں کی وجہ پوچھتے ہوئےاستفسار کیا کہ موجود ملازمین کو مستقل کرنے میں کونسی پریشانی ہے، کوئی دوسرا ایشو نہیں تو انہیں ہی مستقل کریں ،عدالت نے اپیل سماعت کیلئے منظورکرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

News Source

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں