وفاقی کابینہ کا زیادتی کے ملزموں کو سخت سزائیں دینے کا مطالبہ

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت ہونےو الے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وفا قی کابینہ نے زیادتی کے ملزموں کو سخت سزائیں دینے کا مطالبہ کر دیا۔
وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلا س ہوا جس میں ملکی سیاسی، معاشی صورتحال کا جائزہ لیا گیا جبکہ کابینہ اجلاس میں موٹروے واقعہ پر بھی گفتگو ہوئی اور کابینہ ارکان نے جنسی درندوں کو سخت سزائیں دینے کا مطالبہ کر دیا۔ کابینہ ارکان نے مؤقف اپنایا کہ جنسی درندوں کو سخت اور فوری سزائیں دینا ہوں گی،اس وقت تمام جماعتوں کو مل کر قانون سازی کی ضرورت ہے، کابینہ ارکان۔اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ایسے مجرم کسی رعایت کے مستحق نہیں۔
اس کے علاوہ اجلاس میں وفاقی کابینہ نے ای سی سی کے 2 ستمبر کے فیصلوں کی توثیق کردی جبکہ مشکوک پائلٹس کے لائسنس منسوخ کردئیے گئے۔وفاقی کابینہ میں آئینی ترمیم بل 2020 پیش کیا گیا جبکہ کابینہ اجلاس میں نیشنل ڈیزاسٹررسک منیجمنٹ کے سی ای او کی تعیناتی کردی گئی۔اس کے علاوہ نیشنل فرٹیلائزر کارپوریشن کے سی ای او کی تعیناتی کی منظوری سمیت مسابقتی کمیشن میں ممبر کی تعیناتی کی منظوری بھی دے دی گئی۔
کابینہ میں سول سروس اکیڈمی کے اسٹیٹس کا معاملہ بھی پیش کیا گیا جبکہ کابینہ نے پشاور،لاہور،راولپنڈی میں اسپیشل کورٹ کے ججز کی تعیناتیوں کی منظوری دے دی ۔اس کے ساتھ ساتھ وفاقی کابینہ نے دوہری شہریت والوں کو الیکشن لڑنے کا حق دینے اور سینیٹ الیکشن خفیہ رائے شماری ختم کرنے کے لیے آئینی ترمیمی بل کی منظوری بھی دے دی جبکہ کابینہ نے جدید جیل کی تعمیر کیلئے اسلام آباد کے ماسٹر پلان میں ترمیم کی منظوری کے ساتھ ساتھ وزارت ٹیلی کمیونیکیشن نے چین کی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ساتھ ہونے والے ایم او یو کی بھی منظوری دے دی۔
کابینہ اجلاس میں انٹیلی جینس بیورو کو پلاٹس کی الاٹمنٹ کا معاملہ موخر کر دیا گیا جبکہ سی ڈی اے اور اسلام آباد میونسپل کارپوریشن کے درمیان اختیارات کی تقسیم کا معاملہ بھی موخر کر دیا گیا۔

News Source

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں