صحت اور ڈاکٹر اجازت دے تو نواز شریف عدالت میں سرنڈر کریں گے، مسلم لیگ ن

اسلام آباد: مسلم لیگ ن کے رہنماوں کا کہنا ہے کہ عدالت کے فیصلہ کا احترام ہے لیکن نواز شریف علاج مکمل ہونے اور ڈاکٹرز کی اجازت کے بعد ہی پاکستان آکر عدالت میں سرنڈر کریں گے۔
سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور پارٹی کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مسلم لیگ کے رہنما خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ آج والا فیصلہ ہمارے خلاف ہے لیکن اس کا احترام ہے۔ نواز شریف اپنے نظریے پر چٹان کی طرح قائم ہیں۔ صحت اور ڈاکٹر اجازت دے تو نواز شریف واپس آئیں گے اور عدالت میں سرنڈر کریں گے۔
پریس کانفرنس کے دوران احسن اقبال کا کہنا ہے کہ نواز شریف پاکستان میں آئین اور قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں۔ عدالتی فیصلوں کو تحفظات کے باوجود قبول کیا۔ پاناما کیس کے بجائے بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر نااہل کیا گیا۔ نااہلی کے فیصلے کو بھی قبول کیا۔ آئینی اور جمہوری جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں۔مسلم لیگی رہنما احسن اقبال کا مزید کہنا تھا کہنوازشریف کے وکیل نے عدالت میں بے شمارحوالہ جات پیش کیے، نوازشریف کے وکیل نے پرویزمشرف کیس کا حوالہ بھی دیا، نوازشریف کی میڈیکل رپورٹس پرحکومت نے اختلافی دلیل نہیں دی۔ہم آئینی وجمہوری جدوجہد پریقین رکھتے ہیں۔
اس موقع پر سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی رپورٹس بڑی واضح ہیں۔ عدالت نے قانونی نکات کو ترجیح دی۔ عدالتی فیصلے سے مایوسی بھی ہے۔ عدالتوں کا پہلے بھی احترام کیا اور کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سب سےاہم معاملہ نوازشریف کی صحت کا ہے۔ میڈیکل رپورٹ عدالت کے سامنے رکھی گئی، قوم کے سامنے بھی رکھتے ہیں۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ کیا نوازشریف اس حالات میں ملک واپسی کی پوزیشن میں ہیں؟ نوازشریف کا حق ہے کہ اپناعلاج کرائیں۔ نوازشریف صحت یاب ہوکر کیسوں کا سامنا کریں گے۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نواز شریف کی جانب سے دائر اپیلوں پر بھی سماعت ہوگی۔ جج ارشد ملک کے معاملے سے متعلق بھی اپیل زیر سماعت ہے۔ نوازشریف کا امتحان نہیں،عدل کے نظام کا امتحان ہے۔

News Source

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں