ننھی مومنہ زیادتی کے بعد قتل ، سخت قوانین کے باجود بچوں سےزیادتی کا سلسلہ نہ رک سکا

خیرپور: پیر جو گوٹھ گاؤں کی رہائشی 7 سالہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے پر عوام کا شدید رد عمل سامنے آرہا ہے۔ عوام نے اعلیٰ حکام سے واقعہ پر سخت ایکشن لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔
افسوس ناک واقعہ خیرپور کے گاؤں پیر جو گوٹھ میں پیش آیا، جہاں 7 سالہ بچی جس کی شناخت مومنہ لاریک کے نام سے ہوئی ہے، اس کی لاش ایک باغ سے ملی۔پولیس اطلاع ملنے پر اس جگہ پہنچی اور لاش کو پیر جو گوٹھ ٹی ایچ کیو اسپتال منتقل کردیا تھا۔بچی دو دن سے لاپتہ تھی۔پولیس نے تحقیقات شروع کر کے5 مشکوک افراد کو گرفتار کرلیا جبکہ والد کی جانب سے دائر درخواست پر 3 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا تھا۔اس افسوس ناک واقعہ کے بعد سوشل میڈیا صارفین بھی بچی کیلئے آواز اٹھاتے نظر آئے، اور اپنے ٹویٹس کے ذریعے بچی کیلئے انصاف کوکی جلد فراہمی کا مطالبہ کیا۔

یہاں یہ بات اتنہائی اہم ہے کہ زیادتی کے بڑھتے واقعات کے پیش نظر گزشتہ سال 15 دسمبر 2020 کو آرڈیننس جاری کیا گیا ، جس میں سخت سزاؤں کا اعلان کیا گیا مگر سخت قوانین کے بعد بھی ہر دوسرے دن کم سن بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات سامنے آرہے ہیں۔
28 دسمبر ، 2020 کو لاہور میں ایک کمسن لڑکی کے ساتھ زیادتی کے بعد کا واقعہ سامنے آیا ، جس میں پولیس نے دو ملزمان کو گرفتار کیا ملزمان کی شناخت مقتولہ کے کزن اور اس کے دوست کے طور پر ہوئی ہے۔
24 دسمبر ، 2020 کو مانسہرہ کے تھانہ دربند کے علاقے میں ایک 17 سالہ بچی کے ساتھ زیادتی اور تشدد کا نشانہ بنائے جانے کا افسوسناک واقعہ سامنے آیا ، اس لرزہ خیز واقعے میں ملزمان نے بچی کے جسم پر سگریٹ لگا کر اسے تشدد کا نشانہ بنایا ۔
08 دسمبر 2020 کو لاڑکانہ میں دو لڑکیوں کو اجتماعی زیادتی اور ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنے کا واقعہ سامنے آیا ، ملزمان نے اپنے موبائل فون پر متاثرہ بچی کی غیر اخلاقی ویڈیوز موبائل فون پر محفوظ کرنے کے علاوہ انھیں سوشل میڈیا پر شیئر کیا۔
06 دسمبر ، 2020 کو لاہور میں ایک سات سالہ بچے کی لاش برآمد ہوئی جسے زیادتی کے بعد قتل کیا گیا ۔
14 نومبر ، 2020 کو ایک شخص نے شمالی کشمور ضلع میں نوکری کی پیش کش کے ذریعے خاتون سے دھوکہ دہی کے بعد اسے اور اس کی کمسن بیٹی کو زیادتی اور تشدد کا نشانہ بنایا ۔
08 اکتوبر ، 2020 کو چارسدہ میں ڈھائی سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کی گئی اور اسے قتل کردیا گیا۔
02 اکتوبر ، 2020 کو دو افراد نے نوکری کے بہانے لڑکی کو لاہور ریلوے اسٹیشن کے قریب واقع ہوٹل میں بلا کر زیادتی کا نشانہ بنایا۔
01 اکتوبر ، 2020 کو جڑانوالہ روڈ پر بس کے انتظار میں کھڑی ایک بچی کے اغوا کے بعد اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔
23 ستمبر 2020 کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں ایک بچی کو اغوا کرکے زیادتی کی گئی۔
03 فروری 2020 کو جہلم میں ٹرانسپورٹ عملے نے ایک نوعمر لڑکی کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا۔ بچی تلہ گنگ سے کھاریاں کا سفر کر رہی تھی۔
25 جنوری ، 2020 کو مدرسہ کے استاد شمس الدین نے تین ساتھیوں کے ساتھ مل کر 10 سالہ کو 100 سے زائد مرتبہ جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا ۔
20 جنوری 2020 کو ، خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ کے ضلع کاکا صاحب میں سات سالہ بچی کو دو افراد نے اغوا کیا ، زیادتی کے بعد قتل کردیا۔
31 دسمبر ، 2019 کو لاہور کے گوجر پورہ میں ایک 12 سالہ ذہنی طور پر معذور بچی کو اغوا کے بعد زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔
22 نومبر ، 2019 کو سات سالہ بچی کو اس کے قریبی رشتے دار نے زیادتی کے بعد بے دردی سے گلا دبا کر قتل کر دیا۔

17 ستمبر 2019 کو قصور پولیس نے چونیاں کے صنعتی علاقے کے تین کمسن بچوں کی باقیات برآمد ہوئی جنھیں زیادتی کے بعد قتل کیا گیا تھا۔
جنوری 2018 میں ، چھ سالہ زینب انصاری کو اس کے پڑوسی نے قصور سے اغوا کے بعد زیادتی کی اور قتل کر دیا، جس کے بعد ملک بھر میں شدید عوامی غم و غصے کا اظہار سامنے آیا اور مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا۔

Source

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں