سعودی عرب نے پاکستانیوں سمیت تمام غیر ملکیوں کو بڑی خوشخبری سنا دی

سعودی عرب کی وزارت محنت و سماجی بہبود آبادی نے واضح کیا ہے کہ ہر ماہ کی 5 تاریخ تک کارکنوں کو تنخواہ نہ دینا قانون کی خلاف ورزی ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق سعودی عرب کی وزارت محنت نے ٹویٹر اکاو¿نٹ پر سوال کا جواب دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سعودی عرب میں قانون محنت کی پابندی کرنا ہر ایک کا فرض ہے، متاثرین تاخیر پر تنخواہ ملنے پر اسمارٹ فون ایپ کے ذریعے شکایت درج کراسکتے ہیں۔

وزارت محنت و سماجی بہبود آبادی کی جانب سے تنخواہوں میں تاخیر کی شکایات درج کرنے کے لیے اسمارٹ فون پر مخصوص ایپ بھی لانچ کی گئی ہے۔اس ضمن میں ایک شخص کا کہنا تھا کہ انہیں تنخواہوں کی ادائیگی میں کافی تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اگر کمپنی انتظامیہ سے اس بارے میں شکایت کی جاتی ہے تو انہیں نوکری سے فارغ کرنے کی دھمکی دی جاتی ہے۔

وزارت محنت کا کہنا تھا کہ وزارت کی متعلقہ ایپ پر تمام جائزشکایات اپ لوڈ کی جاسکتی ہیں جن کے بارے میں وزارت محنت کی کمیٹی مکمل تحقیقات کے بعد فوری طور پر انہیں حل کرنے کے لیے متعلقہ ادارے سے رابطہ کرتی ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب میں وزارت محنت کی جانب سے آجر اور اجیر کے حقوق کے تحفظ کے لیے تمام شہروں میں ذیلی ادارے قائم کیے گئے ہیں جبکہ آن لائن خدمات بھی فراہم کی جاتی ہے۔وزارت محنت کی زیر نگرانی لیبر کورٹس بھی قائم ہیں جہاں کارکنوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے قاضی متعین ہیں، وہ غیرملکی جنہیں عربی نہیں آتی انہیں ترجمان حاصل کرنے کی سہولت بھی فراہم کی جاتی ہے۔

یاد رہے کہ سعودی عرب میں کارکنوں کی تنخواہوں کے حوالے سے واضح شاہی احکامات موجود ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ مملکت میں ہر ماہ کی 27 تاریخ تک تنخواہ ادا کردی جائے، مذکورہ تاریخ ہفتہ وار یا سرکاری تعطیل کے دوران آنے کی صورت میں تاخیر کی جاسکتی ہے۔

News Source

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں