اقوام متحدہ نےجنگ عظیم دوم کے بعد کورونا وائرس کوسب سے بڑاچیلنج قراردے دیا

نیویارک : اقوام متحدہ نے دنیا بھرمیں پھیلے کورونا وائرس کو جنگ عظیم دوم کے بعد سب سے بڑا چیلنج قرار دے دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد موجودہ کورونا وائرس دنیا کے لئے سب سے بڑا چیلنج ہے، موجودہ کورونا وائرس سے بدترین عالمی بحران پیدا ہوسکتا ہے جس کاماضی سے کوئی موازنہ نہیں ہے ۔ سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے باعث دنیا کی موجودہ صورت حال جنگ عظیم دوئم کے بعد پیدا ہونے والی بدترین صورت حال کا منظر پیش کر رہی ہے۔
اقوام متحدہ کے سربراہ نے وائرس کی منتقلی اور اس کے خاتمے کے لئے فوری طور پر مربوط صحت سے متعلق حکمت عملی بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کے تخمینے کے مطابق مہلک وبا کے نتیجے میں دنیا بھر میں 25 ملین تک ملازمتیں ختم ہوسکتی ہیں۔جبکہ عالمی غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری پر بھی 40 فیصد تک دباؤ آسکتا ہے ۔ انتونیوگوتریس اس وباء سے متعلق اقوام متحدہ کی سماجی و اقتصادی اثرات کے بارے میں ایک رپورٹ پر خطاب کر رہے تھے۔
گزشتہ برس دسمبر میں چین سے منظر عام پر آنے والے کورونا وائرس سے اب تک دنیا بھر میں 42 ہزار سے زائد لوگ ہلاک ہوچکے ہیں جب کہ 8 لاکھ 60 ہزار سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں۔
اقوام متحدہ اس کورونا وائرس کوویڈ 19 کو عالمی وبا قرار دے کر خبر دار کر چکی ہے کہ اگر دنیا نے وائرس پر قابو پانے کے لیے فوری طور پر اقدامات نہ کیے تو اس سے پوری عالم انسانیت کو خطرہ ہے اور لاکھوں افراد اس کا شکار ہوسکتے ہیں ۔
امریکا میں صورتحال بدترین صورت اختیارکرگئی ہے اورایک روز میں بارہ ہزارسےزائدکیس رپورٹ ہوئے جبکہ مریضوں کی مجموعی تعداد دولاکھ کے قریب پہنچ گئی ہے ۔امریکہ نے ہلاکتوں میں بھی چین کوپیچھے چھوڑ دیا ہے جہاں دنیا میں سب سے پہلے وائرس آیا تھا وہاں اموات کی تعداد 3 ہزار 282 ہے۔امریکہ میں صرف ایک روز میں 748 ہلاکتوں کے بعد مرنے والوں کی کل تعداد3889 تک جاپہنچی ہے ۔امریکی صدرٹرمپ کا کہنا ہے کہ آئندہ 15 روز میں صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے ،کورونا وبا کی صورت اختیار کرچکا ہے۔

News Source

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں