سوڈان 3ارب ڈالر کے بدلے اسرائیل کو تسلیم کرنے کو تیار

سوڈان:دہشت گردوں کے سرپرست ممالک سے اخراج اور 3ارب ڈالر امریکی امداد کے بدلے سوڈان اسرائیل کے تسلیم کرنے کے لیے تیار ہو گیا۔
غیرملکی خبر ایجنسی کے مطابق سوڈان بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل ہونے کو تیار ہے اسی سلسلہ میں سوڈان کے عبوری حکمران کونسل کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان اور سول نمائندے عرب امارات اور امریکا سے مذاکرات کے لیے ابوظہبی پہنچ گئےاور انہوں نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے دو شرائط رکھ دیں ہیں۔ پہلی سوڈان کو دہشت گردوں کے سرپرست ممالک کی فہرست سےنکالا جائے اور دوسرا امریکا انسانی ہمدردی کی بنیاد پر 3ارب ڈالر کی معاشی امداد دے تاہم دہشت گردوں کے سرپرست ممالک کی فہرست سے نکلنے کے لیے سوڈان دہشت گرد حملوں میں مارے گئے امریکی شہریوں کو 300 ملین ڈالر ہرجانہ دے گا۔اس کے ساتھ ساتھ سوڈان اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بدلے میں اگلے تین سال تک عرب امارات اور امریکا سے مالی امداد بھی چاہتا ہے۔
یا درہے کہ سوڈان اور اسرائیل کے خفیہ روابط اس سال فروری سے جاری ہیں اور فروری میں سوڈان کے عبوری حکمران کونسل کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان اور اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے یوگینڈا میں بھی ملاقات کی تھی۔سوڈان کے عبوری حکمران کونسل کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے تحفظات کا شکار تھے لیکن سوڈان کے فوجی سربراہ نے انہیں معاشی فوائد کی امید پر قائل کر لیا ہے۔
دوسری جانب اسرائیل نے سوڈانی شرطیں تسلیم کرنے کے لیے امریکا پر دباؤ بڑھانا شروع کر دیا ہے جس پر امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نےسوڈان کو دہشت گردوں کے سرپرست ممالک کی فہرست سےنکالنے کی یقین دہانی کرا دی اور اس کے لیے اکتوبر کے وسط میں امریکی کانگرس بل منظور کرے گی۔
واضح رہے کہ رواں برس 13اگست کو متحدہ عرب امارات(یو اے ای)نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا جبکہ رواں ماہ بحرین نے بھی اسرائیل کوتسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا جبکہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید 5 ممالک کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی پیش گوئی بھی کی تھی۔

News Source

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں