اسرائیل کے پارلیمانی الیکشن میں کوئی بھی جماعت واضح اکثریت حاصل نہ کرسکی

اسرائیل کے پارلیمانی الیکشن میں کوئی بھی جماعت واضح اکثریت لینے میں ناکام ہو گئی ۔مسلمان سیاست دان منصور عباس اسرائیل میں ممکنہ کنگ میکر بن گئے ۔

غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق اسرائیل میں دو سال کے دوران چوتھی بار الیکشن میں بھی کوئی جماعت واضح اکثریت نہ لے سکی ۔ اسرائیل کی ایک سو بیس رکنی پارلیمنٹ میں حکومت بنانے کے لیے 61 ارکان کی سادہ اکثریت درکار ہے اور وزیراعظم نیتن یاہو کی جماعت تیس نشستیں حاصل کر پائی ہے اور مخلوط حکومت کے سوا کوئی چارہ نہیں ۔

اسرائیل کی مسلم جماعت یونائیٹڈ عرب لسٹ کو پانچ نشستوں پر کامیابی ملی ہے اور اس جماعت کے سربراہ منصور عباس کنگ میکر بن سکتے ہیں ۔ منصور عباس نے الیکشن نتائج کے بعد کہا کہ وہ دائیں یا بائیں بازو کسی کے ساتھ نہیں ہیں اور ابھی کسی کے ساتھ جانے کا فیصلہ نہیں کیا ۔

منصور عباس اس سے پہلے کئی بار نیتن یاہو کی حمایت کر چکے ہیں اور نیتن یاہو کے خلاف کرپشن کیسز کی پارلیمانی تحقیقات کی قرارداد کے خلاف ووٹ دے چکے ہیں ۔ اس لیے اب بھی امکان ہے کہ وہ نیتن یاہو کو دوبارہ وزیراعظم بنوانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں ۔

Source

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں