بھارت میں کورونا کی بدترین صورتحال، چین نے مدد کی پیشکش کر دی

بیجنگ: چین نے ایک مرتبہ پھر کورونا وائرس کے بحران میں مبتلا بھارت کو مدد کی پیشکش کر دی ہے۔

بھارت میں چین کے سفیر سن ویڈانگ نے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ چین کے صدر شی جن پنگ نے وزیراعظم نریندرا مودی کو ہمدردی کا پیغام بھجوایا ہے۔ پیغام کے مطابق چینی صدر کا کہنا ہے کہ کورونا کو دنیا استحکام اور تعاون کی بدولت ہی شکست دے سکتی ہے۔ چین وبا سے لڑنے کے لیے بھارت سے تعاون مستحکم کرنے کے لیے سپورٹ اورمدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ مجھے یقین ہے کہ بھارتی حکومت کی لیڈر شپ کورونا پر یقیناً قابو پا لے گی۔

شی جنگ پنگ کا کہنا تھا کہ انسانیت ایک کمیونٹی ہے جس کا مستقبل مشترکہ ہے اور تمام ممالک مل کر اس وباء کو شکست دے سکتے ہیں۔ چینی حکومت بھارت کی ہر قسم کی مدد کرنے کے لیے تیار ہے۔

اس سے قبل جاپان نے بھی کہا ہے کہ وہ بھارت کو آکسیجن جنیریٹرز اور وینٹیلیٹر فراہم کرے گا۔ جاپان کے سفیر ساتوشی سوزوکی نے ٹویٹ کیا کہ اس انتہائی مشکل وقت میں جاپان بھارت کے ساتھ کھڑا ہے۔

دو روز قبل جاپانی وزیر اعظم اور نریندر مودی کے درمیان ٹیلی فون پر رابطہ ہوا تھا اور اس گفتگو کے بعد ہی جاپان نے اس مدد کا اعلان کیا ہے۔

خیال رہے کہ بھارت میں ایک روز میں عالمی وبا کے 3 لاکھ 86 ہزار 925 کیسز ریکارڈ ہوئے، وبا کے بعد کسی بھی ملک کے یہ اب تک سب سے زیادہ یومیہ کیسز ہیں، شمشان گھاٹ پر کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ایسا منظر زندگی میں کبھی نہیں دیکھا۔

مہلک وائرس سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد 2 لاکھ 8 ہزار سے تجاوز کر گئی۔ گذشتہ کئی روز سے بھارت میں روزانہ ریکارڈ تعداد میں لوگ وائرس سے متاثر ہو رہے ہیں اور ہر آنے والے دن اس تعداد میں اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے۔

دارالحکومت دلی میں 24 ہزار سے زائد نئے مریض سامنے آئے اور 395 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ دلی کے ہیلتھ منسٹر نے کہا ہے کہ ان کے پاس لوگوں کو لگانے کے لیے ویکسین موجود نہیں ہے۔

بھارت میں کوویڈ 19 کے مثبت آنے کی شرح کم از کم 18 فیصد ہو چکی ہے اور معروف بھارتی صحافی برکھا دت کے والد کورونا وائرس میں مبتلا ہو کر چل بسے۔ برکھا دت نے اسے حکومت کی غفلت، سنگدلی اور نااہلی کا نتیجہ قرار دے دیا۔

دلی ، غازی آباد کے بعد سکھ کیمونٹی نے کانپور میں بھی آکسیجن کا لنگر کھول دیا جہاں رنگ، نسل اور مذہبی امتیاز کے بغیر وائرس سے متاثر مریضوں کو آکسیجن کی سہولت مہیا کی جا رہی ہے۔

امریکا نے سو ملین ڈالر کی امداد بھارت بھیجنے کے کام کا آغاز کر دیا۔ محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ امداد بھارت پہنچنے کا سلسلہ اگلے ہفتے تک جاری رہے گا۔ ادھر کورونا کی نئی قسم کا بھارتی وائرس فرانس بھی پہنچ گیا ہے۔

Source

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں