کیلیفورنیاجنگلات میں آتشزدگی ، ٹرمپ نے موسمیاتی تبدیلیوں کےخدشات کومسترد کردیا

واشنگٹن : کیلیفورنیا میں جنگلات میں لگی آگ نے تباہی مچا دی ، امریکی صدرٹرمپ نے تباہ حال کیلیفورنیا کے دورے میں موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے سامنے آنے والے خدشات کو مسترد کردیا ۔
تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج کیلیفورنیا کا دورہ کیا جہاں بڑے پیمانے پر جنگلات میں آگ لگنے سے تقریبا 2 2 ملین ہیکٹر (5 ملین ایکڑ) رقبہ تباہ حال ہو گئی ہے ۔ اگست کے آغاز سےلگنے والی آگ کے نتیجے میں 36 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں ۔ ماحولیاتی ماہرین اور سائنس دان جہاں اسے موسمیاتی تبدیلی کے لیے بڑا خطرہ قرار دے رہے ہیں وہیں ٹرمپ نے اس بحران کا ذمہ دار جنگلات کی انتظامیہ کو ٹھہرا دیا ہے ۔
کیلیفورنیا میں صدر ٹرمپ سے ایک صحافی نے جب یہ سوال کیا کہ کیا جنگلات میں لگی آگ موسمیاتی تبدیلیوں پراثر انداز ہوگی تو ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس حوالے سے جنگلات کی انتظامیہ کو ذمہ دار سمجھتے ہیں ۔ “مجھے لگتا ہے کہ یہ انتظامی بحران ہے۔ یہ آگ ٹھنڈی ہونا شروع ہو جائے گی ، آپ بس دیکھیں … مجھے نہیں لگتا کہ سائنس زیادہ کچھ جانتی ہے۔ “
حالیہ برسوں میں آسٹریلیا اور ایمیزون کے جنگلات میں لگی آگ کا حوالہ دیتے ہوئےٹرمپ نے دعوی کیا کہ دوسرے ممالک نے جنگلات میں لگی آگ کے معاملے کو صحیح طریقے سے حل نہیں کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس طرح کے مسائل نہیں ہیں۔ ان کے پاس بہت سے خطرناک درخت ہیں لیکن ان کے پاس اس جیسے مسائل نہیں ، انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہم موسمیاتی تبدیلی کا شکار ہوجاتے ہیں تو کیا ہندوستان اپنے طریقے بدلنے والا ہے؟ اور کیا چین اپنے طور طریقے درست کر رہا ہے ؟ اور روس؟ کیا روس اپنے طریقے بدل سکے گا ؟۔2020 کے آغاز سے کیلیفورنیا کے جنگلات میں لگی آگ نے 3.2 ملین ایکڑ اراضی کو جلا دیا ہے ، یہ علاقہ کنکیٹی کے قریب ہی ہے۔
یاد رہے کہ رواں سال کے آغاز میں آسٹریلیا کے جنگلات میں لگنی والی آگ سے تقریباً 50 کروڑ سے زائد جانور ہلاک جبکہ اس خطے میں موجود جانوروں کی کئی اقسام صف ہستی سے مٹ جانے کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔

News Source

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں