ایران کے قتل ہونیوالے سینئر جوہری سائنسدان محسن فخرزادہ کی نماز جنازہ ادا

تہران :غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق قتل ہونیوالے ایران کےسینئر جوہری سائنسدان محسن فخر ی زادہ کی نمازِ جنازہ اداکردی گئی۔
تفصیلات کے مطابق محسن فخری زادہ کو دو روز قبل نامعلوم افراد نےتہران کے قریب گولیاں مارکرقتل کردیاتھا جبکہ آج ایران کےقتل ہونیوالے سینئر جوہری سائنسدان محسن فخر ی زادہ کی نمازِ جنازہ اداکردی گئی،ایران نے جوہری سائنسدان کے قتل کا الزام اسرائیل پر لگایاہے،جوابی کاروائی کی دھمکی بھی دے رکھی ہے۔
دوسری جانب ایران کی موجودہ صورتحال پر برطانیہ نے تشویش کا اظہارکردیا، برطانوی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ایران میں جو ہوا اس حوالے سے تمام حقائق جاننے کا انتظار کررہے ہیں،موجودہ صورتحال پر خدشات ہیں۔
گزشتہ روز ایران کے جوہری پروگرام کے معمار محسن فخری زادے کو تہران میں قتل کر دیا گیا تھا،محسن زادے کی کار پر پہلے بم حملہ کیاگیا،پھرفائرنگ شروع کر دی گئی۔جوہری سائنسدان محسن فخری کو طبی امداد کے لیے فوری اسپتال لے جایا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گئے۔محسن فخری زادے ریسرچ اینڈ انوویشن آرگنائزیشن کے سربراہ تھے ، وہ ایران کا جوہری ہتھیاروں کا پروگرام چلا رہے تھےجبکہ وہ امام حسین یونیورسٹی میں فزکس کے پروفیسر بھی تھے۔
دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے جوہری سائنسدان کے قتل میں اسرائیل کو ملوث قرار دے دیا، انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں نے آج ایک نامور ایرانی سائنس دان کو قتل کیا، قتل میں اسرائیل کے ملوث ہونے کے اشارے ملتے ہیں،قاتل جنگ کے خواہاں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین دہرا معیار ترک کر کے اس دہشتگرد حملے کی مذمت کرے۔

Source

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں