عالمی سطح پر بھارت کا چہر ہ ایک بار پھر بے نقاب

لندن : بین الاقوامی جریدے دی اکانومسٹ نے بھارت کا مصنوعی چہر ہ بے نقاب کر دیا۔ جریدے کے مطابق دُنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ایک آمرانہ اور ظالمانہ مستقبل کی طرف گامزن ہے۔
برطانوی جریدے دی اکانومسٹ کے مطابق نریندر مودی بھارت کو یک جماعتی ریاست بنانے میں مصروف ہے، مودی کے بھارت میں اداروں کے اختیارات کا توازن ختم ہوگیا۔ حال ہی میں بھارتی حکومت کے وزراء نے ایک متنازعہ بھارتی صحافی ارنب گوسوامی کی ضمانت منظو ر کروائی۔ بین الاقوامی معتبر جریدے کے مطابق گوسوامی کیس ہر گز آزادی ِ رائے کی نمائندگی نہیں کرتا۔
عالمی جریدے کے مطابق دُنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ایک آمرانہ اور ظالمانہ مستقبل کی طرف گامزن ہے، جہاں صرف طاقت اور طاقتور کا بول بالا ہے۔ مُلک میں 60ہزار سے زائد مقدمات زیرِ التوا ہیں لیکن کٹ پتلی عدالتیں صرف حکومتی من پسند لوگوں کی پُشت پناہی کرنے میں مصروف ہے۔ ان زیرِ التوا مقدمات میں اکثریت اقلیتی گروہوں سے ہے جس میں ایک چوتھائی سے زائد مقدمات وہ ہیں جن میں 1سال سے زائد عرصے سے بے گناہ لوگ جیل کاٹ رہے ہیں۔ گزشتہ سال اگست میں مودی نے کشمیر پر ظالمانہ اور غاصبانہ براہ راست حکمرانی مسلط کی اور ہزاروں بے گناہ کشمیریوں کو حراست میں لیا۔ جن کی سماعت ہندوستان کی عدالتیں بھول چکی ہیں۔ علاوہ ازیں عالیٰ عدلیہ ابھی تک کشمیر کو نظر انداز کیے ہوئے ہے۔متنازعہ سی اے اے 2019کے خلاف 140سے زائد پٹیشنز کی سماعت مسلسل التوا کا شکار ہے۔ ماضی میں بھارتی عدلیہ اور اداروں نے ایک خود مختار اور شفاف رویہ اختیار کیا مگر موجودہ حکومت کے اقتدار میں تمام ادارے بشمول عدلیہ بھارت کو یک جماعتی ریاست بنانے میں آلہ کار ثابت ہو رہے ہیں۔
جریدے نے انکشاف کیا کہ اپنا متنازعہ قانون جس کے تحت سیاسی جماعتوں کو لامحدود عطیات ملنے کی اجازت ملے، پاس کرانے کے لیے 2017ء میں مودی نے راجیا سبہا کے اختیارات کم کروائے۔ بھارت قومیت کے نشے میں آمریت کی طرف رواں دواں ہے۔ دہلی پولیس نے حکومتی پُشت پناہی میں سی اے اے 2019کے خلاف مظاہروں کے دوران مسلمانوں پر شدید ظلم ڈھائے جس پر عدلیہ خاموش تماشائی بنی رہی۔ ایک اور متنازعہ قانون یواے پی اے میں ترمیم کر کے بہت سے مسلمانوں کو دہشت گردی کے الزام میں بھی نشانہ بنایا۔ عالمی جریدے کے مطابقمودی نے اپنے اقتدار کے دوران قومی اداروں کو سیاسی رنگ میں رنگنے کی بھرپور کوشش کی۔بی جے پی اور ہندوتوا کے پیروکاروں کو اعلیٰ حکومتی عہدوں سے نوازا جا رہا ہے۔ مودی کے دورِ اقتدار میں بھارتی فوج کو بھی سیاست میں گھسیٹا گیا۔ اس کا ثبوت جنرل بپن راوت کی سی ڈی ایس کے عہدے پر ترقی اور اُن کا سیاسی معاملات میں مداخلت بھی ہے۔
کالم کے مطابق مودی نے الیکشن سے پہلے بھی فوج کا سہارا لیا اور لداخ میں چین کے ساتھ تنازعہ کا بھرپور پراپیگنڈا کیا۔ مودی نے بھارتی الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری کو متنازعہ بنایا اور الیکشن کمیشن کے فرض شناس افسران اور اُن کے خاندان کو نشانہ بنایا۔ مودی کے دور میں آزادی ِ اظہار پر بھی غاصبانہ قانون بنائے گئے۔ بھارتی سیاسی منظر نامے میں کانگرس کی سیاسی تنزلی نے بھی مودی کی بی جے پی کو فائدہ پہنچایا۔

Source

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں