جب یار نے رخت سفر باندھا کب ضبط کا پارا اس دن تھا


جب یار نے رخت سفر باندھا کب ضبط کا پارا اس دن تھا
ہر درد نے دل کو سہلایا کیا حال ہمارا اس دن تھا

جب خواب ہوئیں اس کی آنکھیں جب دھند ہوا اس کا چہرہ
ہر اشک ستارہ اس شب تھا ہر زخم انگارہ اس دن تھا

سب یاروں کے ہوتے سوتے ہم کس سے گلے مل کر روتے
کب گلیاں اپنی گلیاں تھیں کب شہر ہمارا اس دن تھا

جب تجھ سے ذرا غافل ٹھہرے ہر یاد نے دل پر دستک دی
جب لب پہ تمہارا نام نہ تھا ہر دکھ نے پکارا اس دن تھا

اک تم ہی فرازؔ نہ تھے تنہا اب کے تو بلا واجب آئی
اک بھیڑ لگی تھی مقتل میں ہر درد کا مارا اس دن تھا

احمد فراز

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں