خدا – Khuda

زندگی کے جُھلسے ہوئے صحرا میں
جب بادل بن کر
تم مرے سر کے اوپر سے گُزرو
تو اپنی نگاہوں کی شعاعیں
اک لمحے کیلئے مجھ پر مرکوز کردینا
تاکہ میری بیمار تشنگی کو
شفا نصیب ہو
خدا۔۔۔۔۔۔
میں اپنے پاوں کے چھالے
ہھتیلیوں پر لئے
حق و باطل کے
دو پہاڑوں کے درمیان دوڑ رہا ہوں
مرا ہمسفر نہ ہو
مرے لئے کمین گاہ بن
جہاں میں اپنے خواب
اور چھالوں کی حفاظت کر سکوں
خدا ۔۔۔۔۔
مجھے مت پکار
ہاں اگر ہوسکے تو
خود کو رہنے کے قابل
ایسا مکان بنا دو
جہاں میں سکون سے
سانس لے سکوں

غنی پہوال

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں