اپنی بے صدا خواہشوں کا لشکر لیکر

اپنی بے صدا خواہشوں کا لشکر لیکر
کل تم غباروں کو لپیٹتے ہوئے
میری آنکھوں میں ہو کر گزری تھی
نہ صاحب سلامت کی
نہ میری طرف دیکھا
میں درد کا میٹھا نغمہ بن کر بہنا چاہتا تھا
کہ تمہارے نقش ہائے کفِ پاء سے
اٹھتے ہوئے لحنِ سرود نے
مجھے اپنی آغوش میں لیا
نغموں کے پروں نے مجھے
کسی شاہین کی طرح اٹھا کر
یادوں کے جزیرے میں پھینک دیا
میں دیکھ رہا تھا
شب کو ستارے سَیلِ آب کی طرح رواں تھے
اور میری چادر کا کونہ بھاری ہوگیا تھا
میں سوچ رہا تھا
کہ گانٹھ کھول کر
ساری شکایتیں پھینک دوں
جب گانٹھ کھل گئی
میرے چاروں طرف ایک گنجان شہر پھیل گیا
اور تم شہر سے دور
کھڑی ہو کر مجھے دیکھ رہی تھی
پھر شہر کے سارے رنگ
تمہارے رنگ میں رنگنے لگے تھے

غنی پہوال

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں