اس شرط پہ کھیلوں گی پِیا پیار کی بازی

اس شرط پہ کھیلوں گی پِیا پیار کی بازی
جیتوں تو تُجھے پاؤں ہاروں تو پِیا تیری

ہر لحظ خیال رکھوں گی صرف اتنا
بیٹھ جاؤں تو بھی تیری اور اُٹھ جاؤں تو بھی تیری

کچھ کر لوں حال اپنا ایسا ہمسفر
آنکھ لگے تو بھی تیری آنکھ کھلے تو بھی تیری

تیری ہر آہٹ پر پالوں گی تعبیر ایسی
ہنس جاؤں تو بھی تیری رُوٹھ جاؤں تو بھی تیری

میں ساتھ دوں تیرا کچھ ایسے جانِ جہاں
زِندہ رہوں توبھی تیری مر جاؤں تو بھی تیری

پروین شاکر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں