کورونا وائرس ہوا میں موجود ہے ، سائنسدانوں کا دعوی ٰ

نیویارک: سائنسدانوں کے گروپ نےعالمی ادارہ صحت سےایک خط میں درخواست کی ہے کہ وہ کورونا کیلئے اپنی سفارشات پرنظرثانی کرے ، کیونکہ یہ شواہدموجود ہیں کہ ہوامیں موجود کورونا کےذرات لوگوں کومتاثرکرتے ہیں ۔
عالمی ادارہ صحت کو لکھے گئے خط میں 32 ممالک کی نمائندگی کرنے والے 239 سائنسدانوں نے ان شواہد کا خاکہ پیش کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ہوا میں موجود چھوٹے ذرات لوگوں کو متاثر کرسکتے ہیں ، اور انہیں اپنی سفارشات پر نظر ثانی کرنی چاہئیے ۔ عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ کوویڈ ۔19 ناول کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والی بیماری زیادہ ترچھینک یا کھانسی کے ذریعے خارج ہونے والی بوندوں سے منتقل ہوتی ہے ۔ اوریہ وائرس بنیادی طور پر ایک فرد سے فرد کے رابطے اور متاثرہ فرد کے فوری ماحول میں سطحوں سے بالواسطہ رابطے کے ذریعے پھیلتا ہے۔
ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں کے ایک طبقے کا کہنا ہے کہ شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ وائرس ہوا کے ذریعے بھی پیدا ہوتا ہے اور سانس لینے کے بعد وہ کسی فرد کو متاثر کر سکتا ہے ، چھوٹے چھوٹے ذرات چھینک کے بعد تیزی سے سفر کرسکتے ہیں۔ کچھ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ وائرس سے خارج ہونے والی بوندیں کمرے میں آہستہ آہستہ پھیل سکتے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ہو امیں موجوو زرات سے کورونا کے ایک دوسرے میں منتقلی آسان ہے لہذاممکنہ طور پر تمام جگہوں یعنی ان ڈور بھی میں ماسک ضروری ہوں گے ، قطع نظر اس سےکہ معاشرتی دوری برقرار رکھی گئی ہے یا نہیں۔ صحت کے شعبے میں کام کرنے والوں کو بھی ممکنہ طور پر N95 ماسک کی ضرورت ہوگی جو کم سے کم کورونا وائرس ذرات کو چھان سکتے ہیں۔
تاہم عالمی ادارہ صحت کے انفیکشن کنٹرول سے متعلق تکنیکی ماہر بینیڈا الیگرانزی نے ٹائمز کو بتایا کہ ہوا سے منتقل ہونے والے کورونا ذرات کے بارے میں ابھی بھی ٹھوس شواہد کا فقدان ہے۔عالمی ادارہ صحت نے ہفتے کے روز اس وائرس کے 200،000 سے زیادہ کیسز کی اطلاع دی ہے ، جو 24 گھنٹوں میں سب سے زیادہ کیسز کا ریکارڈ ہے ۔
واضح رہے کہ دنیا بھرمیں مہلک وبا کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد ایک کروڑ 15 لاکھ سے تجاوزکر گئی جبکہ 5 لاکھ 36 ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں ۔

News Source

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں