امریکہ کا وی چیٹ اورٹک ٹاک بند کرنے کا اعلان

نیویارک : امریکہ میں اتوار سے چینی ویڈیو شیئرنگ ایپ ’ٹک ٹاک‘ اور مسیجنگ ایپ ’وی چیٹ‘ ڈاؤن لوڈ کرنے پر پابندی عائد کی جا رہی ہے۔
امریکی حکومت نے ایک بار پھر چینی ایپلی کیشنز ’وی چیٹ‘ اور ’ٹک ٹاک‘ کو سلسلہ وار بند کرنے کا اعلان کردیا۔ امریکی محکمہ کامرس کے مطابق اس اقدام سے امریکہ میں موجود لوگ کسی بھی ایپ سٹور سے ٹک ٹاک اور وی چیٹ کو ڈاؤن لوڈ نہیں کر سکیں گے۔ امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ کمپنیاں امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں اور یہ صارفین کا ڈیٹا چین کو فراہم کرتی ہیں تاہم چین اور یہ دونوں کمپنیاں ان الزامات کی تردید کرتی ہیں ۔ اس فیصلے کے تحت اتوار سے امریکہ بھر میں وی چیٹ پر مؤثر پابندی عائد ہو گی تاہم ٹک ٹاک کے موجودہ صارفین 12 نومبر تک یہ ایپ استعمال کر سکیں گے۔
ٹک ٹاک کمپنی نے اس اقدام کو ’مایوس کن‘ قرار دیا ہے اور محکمہ کامرس سے اختلاف کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے ٹرمپ انتظامیہ کے خدشات کی روشنی میں پہلے ہی ’اضافی شفافیت کی غیر معمولی سطح‘ کا عہد کیا ہے۔
ابتدائی طور پر گزشتہ ماہ اگست میں 2 مختلف ایگزیکٹو آرڈرز کے ذریعے وی چیٹ اور ٹک ٹاک کو بند کرنے کے احکامات جاری کیے گئے تھے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے احکامات میں ٹک ٹاک کو تجویز دی گئی تھی کہ وہ اپنے امریکی شیئرز 45 دن میں کسی امریکی کمپنی کو فروخت کردے، دوسری صورت میں اسے بند کردیا جائے گا۔ اسی طرح وی چیٹ کو بھی بتایا گیا تھا کہ وہ بھی اپنے امریکی اثاثے کسی امریکی ٹیکنالوجی کمپنی کو 45 دن میں فروخت کردے، دوسری صورت میں اسے بھی بند کردیا جائے گا۔ امریکی صدر کی دھمکی کے بعد متعدد امریکی کمپنیوں نے ٹک ٹاک اور وی چیٹ کے امریکی اثاثے خریدنے کی دلچسپی بھی ظاہر کی تھی اور بعد ازاں ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی کمپنیوں کو مزید 45 دن کی مہلت دی تھی۔ یعنی دونوں ایپلی کیشنز کو نومبر کے وسط تک اپنے امریکی اثاثے کسی امریکی کمپنی کو فروخت کرنے تھے، تاہم تاحال کسی بھی کمپنی کا وی چیٹ کا ساتھ کسی معاہدے کی کوئی خبر سامنے نہیں آئی ، ٹک ٹاک کے حوالے سے یہ خبر سامنے آئی تھی کہ امریکی کمپنی اوریکل کے ساتھ پارٹنر شپ بنیادوں پر امریکا میں کام کرنے کے لیے رضامند ہوگئی ہے ، تاہم اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی ٹیک فرم اوریکل اور ٹِک ٹِک کے مالک بائٹ ڈانس کے مابین شراکت کی منظوری دے دی تو اس ایپ پر پابندی عائد نہیں ہو گی۔
دوسری جانب خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ کامرس سیکریٹری ولبرس روز نے فاکس نیوز بزنس سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ امریکی حکومت نے صدر کی ہدایات کے بعد دونوں چینی ایپس پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کامرس سیکریٹری کے مطابق 18 ستمبر کو ایک خصوصی نوٹی فکیشن جاری کیا جائے گا، جس میں واضح کیا جائے گا کہ 20 ستمبر سے امریکا بھر میں وی چیٹ پر پابندی ہوگی اور اسے کوئی ڈاؤن لوڈ بھی نہیں کر سکے گا۔ کامرس سیکریٹری نے واضح کیا کہ امریکی حکومت صدر کے احکامات کے تناظر میں قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام اقدامات اٹھا رہی ہے۔اسی رپورٹ کے حوالے سے رائٹرز نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ امریکی حکومت نے وی چیٹ کو 20 ستمبر سے جب کہ ٹک ٹاک کو 12 نومبر سے بند کرنے کا اعلان کیا۔

News Source

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں