لمبی گردن والے ڈائنو سار اور دریائی گھوڑوں میں کیا چیز مشابہت رکھتی ہے؟

ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ لمبی گردن والے ڈائنو سار بمشول ڈائپلوڈوکس کے قدم دریائی گھوڑے کے مشابہ ہوتے تھے۔

محققین نے ساروپوڈ کے قدموں کے نشان کا مطالعہ کیا تاکہ ان کے چلنے کے طریقے متعلق مزید جان سکیں۔

دریائی گھوڑوں کی طرح ساروپوڈز ’ڈائگنل گیٹ‘ کے ساتھ چلتے تھے۔ اس طریقے کے مطابق اگلی ٹانگلوں کا ایک قدم پچھلی ٹانگوں کے مخالف سمت کے قدم کے ساتھ اٹھتا ہے۔

یعنی اگر اگلی دائیں ٹانگ اٹھی ہے تو اسی وقت پچھلی بائیں ٹانگ اٹھتی ہے۔

محققین کو معلوم ہوا کہ اس طریقہ سے قدم اٹھانے کی وجہ سے ڈائنو سار اپنے بڑے اجسام کو توازن میں رکھتے تھے۔

سارو پوڈز زمین پر پیدا ہونے والے جانوروں میں سب سے وزنی مخلوق تھے۔ ان کا وزن 14 افریقی ہاتھیوں کے برابر تھا۔

تقریباً 6.6 کروڑ سال سے 20 کروڑ سال کے درمیان جب یہ سبزی خور ڈائنو سار زندہ تھے تو زمین پر ان کا غلبہ تھا۔

دوسری جانب ہاتھیوں کے چلنے کے طریقے کو ’لیٹرل‘ گیٹ کہا جاتا ہے جس میں جسم کے ایک طرف دونوں ٹانگیں بہ یک وقت جسم کو آگے حرکت دینے کے لیے اٹھتی ہیں۔

یہ نئی تحقیق لیورپول میں قائم جان مورس یونیورسٹی کے محققین ڈاکٹر جینس لیللین سیک اور ڈٓکٹر پیٹر فاکنگہم نے کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں