بٹ کوائن منشیات فروشوں کا اہم ہتھیار بن گیا ہے، رپورٹ

ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیابھرمیں جرائم پیشہ افراد بٹ کوائن اور دیگرکرپٹوکرنسی کومنی لانڈرنگ کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

صرف میکسیکو کے ڈرگ کارٹیل ہی سالانہ 25 ارب ڈالرمالیت کی کرپٹو کرنسی کو منی لانڈرنگ کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ جب کہ کولمبیا کی بڑی ڈرگ مافیاز بھی بٹ کوائن کو رقم کی غیر قانونی ترسیل کے لیے استعمال کررہی ہیں۔

اقوام متحدہ سے تعلق رکھنے والے بین الاقوامی نارکوٹکس کنٹرول بورڈ( آئی این سی بی ) کے مطابق میکسیکو اور کولمبیا کے منشیات کے بڑے اسمگلروں کی جانب سے کرپٹو کرنسی خصوصا ً بٹ کوائن کے ذریعے منی لانڈرنگ میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

نارکوٹکس بورڈ کی سالانہ رپورٹ کے مطابق دنیا کے سب سے بڑے منظم، امیر ترین اور طاقت ورمیکسیکن ڈرگ کارٹیلزاس طریقے سے ہرسال سالانہ 25 ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ کر رہے ہیں۔ ان منشیات فروش گروپوں میں جیلسکونیوجنریشن کارٹیل اور سینا اولا کارٹیل سرفہرست ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ جرائم پیشہ گروپس اپنی غیر قانونی رقم کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کرکے مختلف بینک اکاؤنٹس میں جمع کروادیتے ہیں اور بعد ازاں ان اکاؤنٹس کی مدد سے آن لائن بٹ کوائن خرید لیتے ہیں، جنہین بعد میں رقم کی غیر قانونی ترسیل کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

امریکی ادارے برائے انسداد منشیات کے مطابق میکسیکو اورکولمبیا کے ڈرگ لارڈز کی کرپٹو کرنسی میں دلچسپی کی دواہم وجوہات ہیں، اول یہ کہ بھیجنے اور وصول کرنے والی کی شناخت ظاہر نہیں ہوتی، دوم یہ اس کی ٹرانزیکشن چند لمحوں میں مکمل ہوجاتی ہے۔

آئی این سی بی نے کرپٹو کرنسی کی مدد سے منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے دنیا بھر کے تمام ممالک کے لیے ریڈ الرٹ جاری کرتے ہوئے کرپٹو کرنسی کوریگولیٹ کرنے کے لیے ایک مشترکہ معاہدے پر زوردیا ہے۔

دو ماہ قبل بھی بلاک چین ڈیٹا کمپنی Chainalysis کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ 2021 میں جرائم پیشہ عناصر نے 8 ارب 60 کروڑ ڈالر مالیت کی کرپٹو کرنسی غیر قانونی طریقے سے منتقل کی، یہ اعداد و شمار 2020 کے مقابلے میں 30 فیصد زائد ہیں۔ واضح رہے کہ اس میں درج مبالا ڈرگ کارٹیل کی منی لانڈرنگ کے اعداد و شمار شامل نہیں ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی ( این سی اے) جرائم پیشہ افراد کے کرپٹو کرنسی والٹ تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔

ان افراد میں رینسم ویئر حملہ آور، مال ویئر آپریٹر، اسکیمرز، انسانی اسمگلنگ کرنے والے، ڈارک نیٹ پر منشیات اور دیگر غیر قانی کام کرنے والے آپریٹرز اور دہشت گرد گروپس شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ہر سال غیر قانونی ایڈریسز سے اربوں ڈالر مالیت کی کرپٹو کرنسی اِدھر سے اُدھر کی جاتی ہے۔ جس کے لیے حیرت انگیز طور پر محدود سروسز استعمال کی جاتی ہیں، مجرمان کی معاونت کرنے والے ان ایکسچینج کو بند کرکے اس میں کافی حد تک کمی کی جاسکتی ہے۔

Source

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں